لفظ بھی ہیں شطرنج؛ ہر مُہرہ سوچ سمجھ کے چلنا ہوگا

46 Views

1497611550dailyausaf

اسلام آباد ()سارا کھیل ہی لفظوں کا ہے۔ پہلی بازی سے آخری چال تک’’زندگی لفظوں کی شطرنج ہے۔‘‘ ابنِ صفی نے زندگی کی عملی تفسیر پانچ لفظوں میں بیان کردی تھی۔یہ سچ ہے کہ ہم زندگی کی بساط پر لفظوں کے مُہرے آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہر کام، ہماری ہر بات، ہمارے ہر معاملے میں کام یابی اور ناکامی کا دارومدار لفظوں کے انتخاب اور استعمال پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ ہو۔ کوئی بھی قوم، نسل، ملک یا قبیلہ ہو۔ اپنی مخصوص زبان، بولی اور ثقافت رکھتا ہے۔ زبان کاBONDاس قوم اور قبیلے کے تمام افراد کو ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسی فرد سے دِل کی باتیں Share کی جاسکتی ہیں، جو ہماری بولی اور زبان سمجھتا اور جانتا ہو۔ کسی دوسرے ملک یا دوسری بستی میں جہاں کے رہنے والے ہماری زبان نہ جانتے ہوں، وہاں ہم کئی سال رہنے کے باوجود خود کو اجنبی اور اس جگہ کے لوگوں سے لاتعلق ہی سمجھتے ہیں اور جوں ہی ہمیں اُس اجنبی بستی میں اپنا ہم زبان ملتا ہے تو ہم والہانہ وارفتگی سے اُسے جپھیاں ڈالنے لگتے ہیں۔ خواہ وہ ہمارے اپنے علاقے میں ہمارے پڑوس میں ہی رہتا ہو اور اس سے ہماری خاندانی دشمنی ہی کیوں نہ چل رہی ہو۔زبان کا تعلق دُشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ لیکن دوستی اور دشمنی کے تعلق میں محض ہم زبان ہونے کا رشتہ کام نہیں کرتا۔ ہم، زبان کا کب، کیا اور کیسے استعمال کرتے ہیں، یہ Count کرتا ہے۔ ہم اپنی زبان میں موقع محل کی مناسبت سے کب، کون کون سے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ الفاظ کا ہر وقت چناؤ ہی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے یا ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔بولے گئے اور لکھے گئے لفظ دُنیا کے ہر خطّے کے ہر انسان کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کرتے ہیں۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہمارا، ایک دوسرے سے رابطہ، بات چیت، گفتگو یا تحریروں سے رہتا ہے۔ ڈھائی تین سال کی عمر سے بچّے کو بولنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے، حرف سے لفظ اور الفاظ سے جملوں تک۔ پیار، محبت ، توجہ اور خیال سے بچّے کو ایک ایک لفظ سکھا کر بولنا سکھایا جاتا ہے۔ بچّے کا دماغ، سادہ سلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔ وہ جس زبان میں جو الفاظ سنتا ہے، وہ اُس کے دماغ میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ان الفاظ کی تکرار بچّے کی یادداشت میں ان کی Mirror Copy بناتی چلی جاتی ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے جب بچّہ پہلے اٹک اٹک کر اور پھر، فرفر سنے ہوئے لفظ دہرانا شروع کردیتا ہے۔ اسے اس عمر میں نہ ان لفظوں کے معنی پتا ہوتے ہیں۔ نہ مفہوم۔ آہستہ آہستہ سال بہ سال اس کی Vocabulary میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ اسے لفظوں کے معنی اور مفہوم بھی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔اُس سے کہا جاتا ہے اُٹھ جاؤ، وہ اُٹھ جاتا ہے، بیٹھ جاؤ‘ وہ بیٹھ جاتا ہے، ’آنکھیں بند کرو، وہ آنکھیں بند کرلیتا ہے۔اِسی طرح وہ چیزوں کے نام لیتا ہے اور اپنی ضرورت کے تحت پانی، دودھ بسکٹ مانگنا شروع کردیتا ہے۔ جوں جوں حرف شناسی کا عمل بڑھتا ہے۔ لفظ، جملوں کی شکل اور جملے، پیراگراف کی شکل میں ڈھلنے لگتے ہیں۔دس سال کی عمر تک بچیّ کا دماغ کچا اور پوری طرح Receptive ہوتا ہے۔ اس عمر تک اس کے دماغ کے خلیات ہر اچھی بری بات، ہر سُنی، ہر پڑھی، ہر دیکھی بات اپنے اندر اسٹور کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر18 تا 20 سال کی عمر تک ہمارا دماغ واضح پختہ شکل اختیار کرتا ہے اور باقی ماندہ عمر عام طور پر اسی خاص شکل میں رہتا ہے۔ ماسوائے مخصوص حالات یا مخصوص واقعات یا حادثات کی صورت میں، جب صورت حال، واقعہ یا حادثہ، ماضی کی گذشتہ Learning سے زیادہ بھاری ہو یا زیادہ Effective ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.