سعودی عرب نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو حج سے روک دیا، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی کہیں گے کہ ’’جو ہوا ٹھیک ہوا‘‘


haj-768x384
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلمانوں کے مقدس فریضہ حج کے موقع پر دنیا بھر سے عازمین حجاز مقدس کا قصد باندھتے ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش اور مرادوں کیلئے مقدس سرزمین کا رخ کرتے ہیں۔ حجاج کی آسانی اورسعودی عرب میں غیر قانونی آمدورفت روکنے کیلئے سعودی حکومت دنیا بھر کے ممالک سے حاجیوں کی حج کیلئے قانونی آمدورفت یقینی بنانےکیلئے رابطے میں رہتی ہے اور اس حوالے سے سعودی حکومت کے وضع کردہ اصولوں اور ضوابط پر عمل پیرا ہو کر دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب آتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے مشرقی

وسطیٰ کے بگڑتے حالات اور شرپسندوں کی جانب سے حج کے مقدس فریضے کو بدنام کرنے کیلئے طرح طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور چند ناعاقبت اندیش اس مقدس فریضے کی ادائیگی کیلئے قانونی راستہ اپنانے کے بجائے غیر قانونی طریقوں سے سعودی عرب پہنچتے ہیں جن کی آڑ میں شرپسند بھی شامل ہوتے ہیں۔ حال ہی میں حج کیلئے غیر قانونی عازمین کی ایک بڑی تعداد کو سعودی حکام نے مکہ جاتے ہوئے پکڑا ہوا ہے۔عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے حج پرمٹ کے بغیر مکہ کی جانب رواں ایک لاکھ 20ہزار سے زائد زائرین کو پکڑ کر واپس بھیج دیا ہے، جبکہ 61ہزار 600 گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مکہ جانے والی سڑکوں پر نئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور سکیورٹی کو بھی سخت کردیا گیا ہے تا کہ اس طرح کی غیر قانونی حرکات کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جا سکے۔دوسری جانب زائرین کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ شہری دفاع کے اہلکاروں کو بھی تعینات کردیا گیا ہے۔ مکہ ریجن سول ڈیفنسجنرل ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ تمام علاقوں میں سول ڈیفنس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے تاکہ زائرین کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ اسی طرح فائر بریگیڈ، ریسکیو اور ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں کو بھی تمام اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے۔