شام کا بحران حل ہونے کے قریب ،آئندہ دو ماہ میں کیا ہونے جا رہاہے؟ اقوام متحدہ نے بڑا اعلان کر دیا


syrian-war-war
جنیوا (این این آئی)اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ اکتوبر کا مہینہ شامی بحران کے حل کے حوالے سے اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اکتوبر یا نومبر میں شامی حکومت اور متحدہ حزب اختلاف کے درمیان بحران کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔انھوں نے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میںاقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات کے نئے دور کے لیے ایک نظام الاوقات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے خیال میں اکتوبر میں سعودی دارالحکومت الریاض میں حزب اختلاف کے

تین وفود کے درمیان ایک اجلاس متوقع ہے۔اس میں وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے۔اس سے قبل وہ ستمبر کے وسط میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سفارت کاری کے ایک مختصر دور کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس میں حزب ِاختلاف اور حکومت کے نمائندے شریک ہوں گے اور اس بات چیت میں اکتوبر میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور کا ایجنڈا وضع کیا جائے گا۔ڈی میستورا کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے حوالے سے ہم روس اور ایران پر انحصار کررہے ہیں یا پھر کسی اور پر بھی انحصار کرسکتے ہیں جس کا شامی حکومت پر اثر ورسوخ ہو اور شامی حکومت کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ حزب اختلاف کے کسی بھی مشترکہ پلیٹ فارم کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے۔واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف کا بڑا گروپ تو اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی ہے لیکن اس کے علاوہ دو اور حکومت مخالف گروپ بھی ہیں۔ایک ماسکو پلیٹ فارم اور دوسرا قاہرہ پلیٹ فارم کہلاتا ہے۔یہ دونوں اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کی طرح صدر بشارالاسد کے شدید مخالف نہیں ہیں ۔یہ بعض سیاسی کارکنان یا انسانی حقوق کے کارکنان پر مشتمل ہیں اور شام میں ان کے زیر قبضہ کوئی علاقہ ہے اور نہ ان کےمسلح گروپوں کے ساتھ کوئی مضبوط روابط استوار ہیں۔اقوام متحدہ کے ایلچی نے اس نیوز کانفرنس میں یہ بھی اطلاع دی ہے کہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے اگست کے اوائل میں جاری کردہ ایک خط نے بڑا کام دکھایا ہے اور روسی ملٹری پولیس نے اقوام متحدہ اور ریڈکراس کے امدادی قافلے کے روٹ پرپہرا دیا ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان سے لدے پچاس ٹرکوں پرمشتمل یہ قافلہ دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ میں باغیوں کے زیر قبضہ قصبے الدوما میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔مئی کے بعد الدوما کی جانب بھیجا گیا یہ پہلا امدادی قافلہ ہے۔اس کے ذریعے پینتیس ہزار افراد کے لیے امدادی اشیاء بھیجی گئی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار جان ایگلینڈ نے الدوما میں امدادی قافلے کی آمد کو ’’ بڑا علامتی‘‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت کوششیں کی گئی اور مذاکرات کیے گئے تھے۔ اس میں روس اور دوسروں کی بہت زیادہ مدد شامل رہی ہے‘‘۔واضح رہے کہ الدوما ان گیارہ علاقوں میں شامل ہے جن کا شامی فورسز یا دوسرے مسلح گروپوں نے محاصرہ کررکھا ہے۔ان میں شام میں داعش کا مضبوط گڑھ الرقہ شہر بھی شامل ہے جس کا امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) نے گھیراؤ کررکھا ہے۔ جان ایگلینڈ کاکہنا تھا کہ شام میں اس وقت بدترین جگہ الرقہ شہر کے بعض علاقے ہیں جو بدستور داعش کے قبضے میں ہیں۔ان کے بقول وہاں بیس سے پچیس ہزار شہری مکمل طور پر محصور ہو کررہ گئے ہیں۔ان کی آبادیوں کا شامی جمہوری فورسز نے گھیراؤ کررکھا ہے جبکہ داعش کے جنگجو انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے ایس ڈی ایف پر زوردیا ہے کہ وہ وہاں سے شہریوں کو نکلنے کی اجازت دے اور ان کی ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔