دوایسی بھارتی بہنیںجودو پاکستانی نوجوانوں کی محبت میں گرفتار ہوئیں اور پھر۔۔۔ محبت کی ایسی داستان جسے پڑھ کر کسی کو یقین نہ آئے


zeenat-awr-zareena
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یوں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے کئی خاندان موجود ہیں جن میں گہری رشتے داری ہے اور ان کے درمیان شادیوں کا سلسلہ اسی طرح سے قائم ہے جو کہ تقسیم سے قبل تھا، مگر پاکستان اور بھارت میں محبت کی شادی کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور اسے مذہب ، معاشرے اور رسوم و رواج کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ محبت کرنے والے کبھیتو اپنی منزل پا لیتے ہیں اور کبھی انہیں ناکامی ہوتی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کے درمیان کئی ایسی خبریں سامنے آئی جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی انہی میں سے ایک تھی، دونوں آسٹریلیا میں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اور پھر بھارت میں شدید ترین مخالفت کے باوجود ثانیہ مرزا نے شعیب ملک کے ساتھ زندگی کی راہوں میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شادی کر لی ۔ اسی طرح کی ایک خبر اب یہ ہے کہ دو بھارتی مسلمان بہنوں نے دو پاکستانی نوجوانوں سے مخالفت اور تمام تر خدشات کو بالائے طاق رکھ کر شادی کی اور ان کی محبت کی داستان اب ہر زبان زدعام ہے۔ دو بہنوں زرینہ اور زینت کی ہے، جنہیں دو پاکستانی نوجوانوں سے سچی محبت ہوئی اور اب یہ دونوں جوڑے اپنے بچوں کے ساتھ ایک خوبصورت زندگی گزار رہے ہیں۔زینت اپنی کہانی سناتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ”لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بھارت میں کوئی نہیں ملا کہ ہم نے پاکستانی دولہے تلاش کئے ہیں‘‘“ زینت اور زرینہ کا تعلق بھارتی شہر ممبئی سے ہے۔ زینت سے شادی کرنے والے پاکستانی نوجوان تنویر کا تعلق لاہور سے ہے، اور اس کے دوست مصطفی اقبال کا تعلق پشاور سے ہے، جس نے زینت کی بہن زرینہ سے شادی کی ہے۔ ان دونوں جوڑوں کی شادیاں 1998ءمیںایک ہی دن ہوئی تھیں۔ زرینہ اور مصطفی کے پانچ بچے ہیں جبکہ زینت اور تنویر تین بچوں کے والدین ہیں۔ زینت نے بتایا کہ جب وہ 11 سال کی تھی تو اس وقت سے ہی تنویر کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔ وہ دونوں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ان کی محبت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی اور بالآخر انہوں نے شادی کرلی۔زینت اور تنویر کی ملاقاتوں کے دوران ہی زرینہ کی ملاقات مصطفیسے ہوگئی اور انہیں بھی آپس میں محبت ہوگئی۔ ان بہنوں کے والد کیلئے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا کیونکہ ان کیلئے اپنے خاندان والوں کو یہ سمجھانا بہت مشکل تھا کہ ان کی دونوں بیٹیاں پاکستانی لڑکوں سے کیوں شادی کررہی ہیں۔ کوئی بھی اس بات کو قبول کرنے پر تیار نظر نہیں آتا تھا۔ دوسری جانب لڑکوں کے والدین کیلئے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وہ بھی بھارتی لڑکیوں کےساتھ اپنے بیٹوں کو بیاہنے میں سخت ہچکچاہٹ کے شکار تھے۔ خوش قسمتی سے رفتہ رفتہ یہ سب رکاوٹیں دور ہو گئیں اور محبت کی یہ کہانیاں اپنے خوبصورت انجام کو پہنچیں۔