بچے تو حرام کے تھے


Bachy-to-haram-k-thy.-Web
آج کام سے واپسی پر اسٹیشن پر کھڑا ٹرین کا منتظر تھا ، کہ میرے سامنے کھڑا گورا جو مجھے ٹکٹکی باندھے مسلسل یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو، میرے قریب آیا اور بولا تم نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں روجر ہوں۔ میں عجیب سی کشمکش میں تھا کہ آواز تو جانی پہچانی تھی مگر حلیہ نہیں۔ لمبی دارڑھی، سفید جبہ، سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح۔۔ روجر۔۔ میں نے عقل کا گھوڑا بہت دوڑایا مگر کچھ یاد نہ آیا۔ وہ میری پریشانی سمجھ گیا اور بتایا کہ کچھ سال پہلے فلاں فلاں جگہ ملاقات ہوئی تھی۔ اوہ یاد آیا ہاں ہاں روجر تم؟ مگر یہ کیا حلیہ اپنا رکھا ہے تم نے؟ کیا ہوا تمہیں؟میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ اس نے بتایا۔ اچھا کب؟ اور کیسے؟ تو اس نے بتایا کہ مالی طور پر کافی پریشان تھا۔ کئی مہینوں سے مکان کا کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا اور کریڈت کارڈ پر قرضہ چڑھ گیا تھا۔ بلوں نے جان کھا لی تھی۔ اور تو اور کام پر جن دوستوں سے ادھار لیا ہوا تھا انہوں نے شکایات لگا کر نوکری سے نکلوا دیا۔ میں نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی ٹھان لی تھی۔مرنے کے لئے چلتی ٹرین کے آگے کودنے لگا تھا کے ایک صومالی لڑکے نے آ کے جان بچا لی۔

وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔ میری مالی مدد بھی کی۔۔دوست بن گیا میرا اور اسی کی تبلیغ سے بعد میں میں اسلام بھی لے آیا۔مگر اب تم کیا کرتے ہو؟ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ کام تو کوئی نہیں کرتا بس مسجد کی صفائی کر دیتا ہوں تھوڑی بہت رقم مل جاتی ہے اس پر میں نے پوچھا اتنی تھوڑی رقم پہ بچوں کا گزارا کیسے ہوتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ بچوں کو چھوڑے ہوئے تو ایک سال ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیوں تو اس نے جواب دیا کہ بس گرل فرینڈ کو کہا اسلام لے آؤ وہ نہیں مانی۔ اور بچے تو ویسے بھی حرام کے تھے۔۔وہ تسبیح ہاتھ میں گھماتے ہوئے پلیٹ فارم پر آتی ٹرین کو دیکھتے ہوئے بتا رہا تھا اور مجھے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔وہ اپنے ہی بچوں کو حرام کے کہ رہا تھا ۔میں سوچ رہا تھا کہ یہ انسان کی خدا سے کیسی چاہ ہے جو اسے اپنے تخم، اپنی نسل سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ خدا اور اسکا دین تو اس بات کی تعلیم نہیں دیتا۔ یہ کونسا اسلام ہے جو یہ لوگ اپنا لیتے۔