پاکستان کے مایہ ناز بلے باز عمران نذیر تو آپ کو یاد ہوں گے آج کل وہ کہاں اور کس حال میں ہیں؟. گورے سینئر نے مجھے کہا جب بھی واپس آنا ہو صرف ایک کال کر دینا – اسد عمر. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ. زرداری اور نواز شریف مل کر کیا کرنے جارہے ہیں؟ سینئر صحافی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی. نئی دہلی، بیجنگ سرحدی کشیدگی ، بھارت کی تینوں مسلح افواج کے کمانڈروں کا فوجیوں کو چوکنا رہنے کا حکم. آج کی سب سے بڑی خبر : عدالت نے شریف برادران ، چوہدری برادران ، عمران خان، ایاز صادق ، شیخ رشید سمیت 64 سیاستدانوں کو بڑا حکم جاری کردیا. پی پی 4 گوجرخان : سپریم کورٹ نے (ن) لیگ کی بہت بڑی وکٹ اڑا دی. ن لیگ کے ڈیرے پر پی ٹی آئی ورکرز کی دھلائی ، ایسی خبر آگئی کہ آپ کا یقین کرنا مشکل ہو جائے گا. الیکشن ٹربیونل نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف پیپلز پارٹی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی. عوام کیلئے خوشخبری عید الاضحی پر 16روز کی تعطیلات کا اعلان ‎

دنیا بھول جائے گی


Dunya-for-web
وزیراعظم راجیو گاندھی نہرو خاندان کی تیسری نسل تھے‘ یہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کے سربراہ اور بھارت کے وزیراعظم بنے‘ بہرامنام راجیو گاندھی کے خصوصی مشیر تھے‘ راجیو گاندھی نے 1987ءمیں راجستھان کی سرحد پر فوج تعینات کر دی‘ بھارتی فوج جنگ کےلئے تیار کھڑی تھی‘ وزیراعظم کے اشارے کی دیر تھی اور بھارتی فوج پاکستان پر حملہ کر دیتی‘ ان دنوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم انڈیا کے دورے پر تھی‘ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جے پور میں ٹیسٹ جاری تھا‘ پاکستان اور بھارت کے

درمیان خوفناک ٹینشن تھی‘ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی تھی لیکن پھر اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ جنرل ضیاءالحق اپنے صدارتی جہاز میں سوار ہوئے اور بھارت کی طرف سے دعوت کے بغیر دہلی روانہ ہو گئے‘ جنرل صاحب کرکٹ میچ دیکھنے انڈیا گئے‘ جنرل ضیاءکی اس غیر سفارتی حرکت نے بھارت میں سنسنی پھیلا دی‘ راجیو گاندھی پاکستانی صدر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن کابینہ اور اپوزیشن نے انہیں دہلی ائیرپورٹ جانے اور جنرل ضیاءالحق کا استقبال کرنے پر مجبور کر دیا‘ اس کے بعد کیا ہوا‘ یہ آپ بہرامنام کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔ ”کابینہ اور اپوزیشن لیڈروں نے راجیو گاندھی کو سمجھایا‘ آپ اگر پاکستانی صدر کے استقبال کےلئے ائیرپورٹ نہیں جائیں گے تو عالمی سطح پر بھارت کی بہت بے عزتی ہو گی چنانچہ راجیو گاندھی ہمارے اصرار پر نیو دہلی ائیرپورٹ پہنچ گئے‘پاکستانی صدر طیارے سے اترے‘ راجیو نے جنرل ضیاءسے ہاتھ ملایا لیکن اس نے جنرل ضیاءالحق کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا‘ راجیو نے ہاتھ ملاتے ہوئے مجھے حکم دیا‘ بہرامنام جنرل صاحب میچ دیکھنے آئے ہیں‘ انہیں فوراً روانہ ہو جانا چاہیے‘ آپ ان کے ساتھ جاﺅ اور ان کا خیال رکھنا‘

یہ جنرل ضیاءالحق کی سیدھی سادی بے عزتی تھی لیکن میں جنرل ضیاءکا رد عمل دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے تھے‘ وہ اس بے عزتی کے باوجود مسکراتے رہے‘ جنرل ضیاءالحق جے پور کےلئے روانہ ہونے لگے تو وہ بھارتی وزیراعظم کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور نہایت ہی ٹھنڈے لہجے میں بولے‘ مسٹر راجیو !آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں‘ آپ ضرور کریں لیکن آپ ایک بات یاد رکھئے گا‘ اس حملے کے بعد دنیا ہلاکو خان اور چنگیز خان کو بھول جائے گی‘ یہ صرف راجیو گاندھی اور ضیاءالحق کو یاد رکھے گی کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں ہوگی‘

یہ نیو کلیئر وار ہو گی اور جنگ میں ہو سکتا ہے پورا پاکستان تباہ ہو جائے مگر اس کے باوجود دنیا میں مسلمان رہیں گے لیکن آپ یہ یاد رکھنا اس جنگ کے بعد دنیا میں کوئی ہندو نہیں بچے گا“۔ بہرامنام کے بقول ”یہ فقرے بولتے وقت ضیاءالحق کی آواز اور آنکھوں میں اتنی سختی اور اتنا عزم تھا کہ وہ مجھے اس وقت دنیا کے خطرناک ترین شخص دکھائی دیئے‘ راجیو گاندھی کی پیشانی پر پسینہ آ گیا جبکہ میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیل گئی‘ جنرل ضیاءالحق نے یہ فقرے بڑی ہی سنجیدگی سے کہے‘ وہ اس کے بعد مسکرائے اور مجھے اور راجیو گاندھی کو چھوڑ کر وہاں موجود تمام لوگوں کے ساتھ بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا‘ وہ بھارتی وزیراعظم کو جوہری جنگ کی دھمکی دینے کے باوجود بہت خوش اور ہلکے پھلکے موڈ میں دکھائی دے رہے تھے‘ میں ان کے اعصاب اور اداکاری پر حیران ر ہ گیا“۔.