کنواری ہیں یا نہیں ، ملازمت سے پہلے وضاحت کریں


1501825478dailyazad
پٹنہ( آزادویب ڈیسک) بھارت میں سرکاری ادارے کی جانب سے ملازمت حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے معیار میں ایک شق شامل کی گئی ہے جس میں ان سے کنواری ہیں یا نہیں کے متعلق پوچھا گیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اندرا گاندھی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے ملازمت کے خواہشمند امیدواروں کوکہا
گیا ہے کہ وہ اپنے کنوارپنے کی تصدیق کریں۔فیمینسٹ گروپ کی جانب سے اس شرط کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم بہار کے وزیرصحت منگل پانڈے کے مطابق کنواری ہونے کا بھی وہی مطلب ہے جو غیرشادی شدہ یا خالص ہونے کا ہے۔ان کے مطابق اندراگاندھی میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی جانب سے درخواست گزاروں کو کنوار پنے کے بارے میں وضاحت مانگ کر غلط کام نہیں کیا گیا ہے۔نجی خبررساں ادارے کو انڈین میڈیا سے موصول اطلاعات کے مطابق وزیرصحت نے اپنے موقف کی وضاحت میں کہا کہ ڈکشنری میں کنواری یا ورجن کا مطلب غیرشادی شدہ یا خالص لڑکی ہی ہے، اس لئے ان تمام الفاظ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔قبل ازیں بدھ کو اندرا گاندھی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سپریٹنڈنٹ منیش منڈل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کنوارپنے کی وضاحت اس لئے مانگی گئی ہے تاکہ مستقبل میں جنسی زیادتی کے کسی واقعے کی صورت میں اس سے مدد لی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کے انتظامیہ نے اسی معیار پر عمل کیا ہے جو مرکزی حکومت کی جانب سے متعین کیا گیا ہے۔اسپتال کی جانب سے ملازمت کے لئے جاری کردہ فارم میں اپنی ازدواجی حیثیت کو بیان کرنے کے لئے تین آپشنز شامل کئے گئے تھے جو یہ ہیں”میں ایک بیچلر، طلاق یافتہ یا کنواری ہوںمیں شادی شدہ ہوں اور ایک ہی زندہ بیوی رکھتا ہوںمیں کسی ایسے شخص سے شادی کرچکی ہوں جس کی کوئی اور بیوی زندہ نہیں ہے یا میں ایسے شخص کی بیوی ہوں جو اور بھی زندہ بیوی رکھتا ہے۔