بلیو ٹوتھ کو اس کا عجیب نام کیسے ملا؟


1499263950dailyausaf
بلوٹوتھ ایک وائرلیس ٹیکنالوجی سٹینڈرڈ ہےجسے ٹیلی کام کمپنی ایریکسن نے 1994 میں بنایا تھا۔اس میں فکس اور موبائل ڈیوائسزکے درمیان پرسنل ایریا نیٹ ورکس بنا کر کم فاصلے میں شارٹ ویو لینتھ، یو ایچ ایف ریڈیو ویو کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کو RS-232 ڈیٹا کیبلز کےوائرلیس متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔موبائل فون کے کمپیوٹر سے کمیونی کیشن کا سسٹم بنانے والے انٹیل انجینئیرجم کارداچ نے 1997میں اس ٹیکنالوجی کیلئے بلوٹوتھ کا نام تجویزکیا۔جم فرانس جی بینگٹسون کی کتاب دی لانگ شپس کا مطالعہ کر رہے تھے۔دی لانگ شپس شاہ ہیرالڈ بلوٹوتھ اور وائی کنگز کے بارے میں ایک تاریخی کہانی ہے

جس میں شاہ بھی وہی کرتا ہے جو بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کرتی ہے۔کتاب کے مطابق ہیرالڈ بلوٹوتھ نے ڈنمارک کے بکھرے ہوئے قبائل کو ایک سلطنت میں جوڑ دیا تھا۔ بلوٹوتھ ٹیکنالوجی بھی کمیونی کیشن پروٹوکولز کو ایک یونیورسل سٹینڈر میں یکجا کرتی ہے۔بلوٹوتھ کا لوگو بھی نورڈک رونی (حروف) کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ یہ ہیرالڈ کے نام کے ابتدائی الفاظ ہیں۔بلوٹوتھ ایک وائرلیس ٹیکنالوجی سٹینڈرڈ ہےجسے ٹیلی کام کمپنی ایریکسن نے 1994 میں بنایا تھا۔اس میں فکس اور موبائل ڈیوائسزکے درمیان پرسنل ایریا نیٹ ورکس بنا کر کم فاصلے میں شارٹ ویو لینتھ، یو ایچ ایف ریڈیو ویو کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کو RS-232 ڈیٹا کیبلز کے وائرلیس متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔