جاپانی نوجوانوں کو سیکس کیوں پسند نہیں؟


1499419790dailyazad
ٹوکیو(نئی ویب مانیٹرنگ ڈیسک )ایک نئی تحقیق کے مطابق جاپان میں ایسے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جنھوں نے کبھی سیکس نہیں کیا یا کرنا بھی نہیں چاہتے۔جاپان اپنی جنسی ثقافت کے لیے مشہورہے۔یہ وہ ملک ہے جس نے پیارکاہوٹل ایجادکیا۔ایک جاپانی لڑکی برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ سیکس ایسی
چیز ہے جس کی مجھے ضرورت یاخواہش نہیں۔جاپان کے متعددنوجوان سیکس کے بغیرزندگی گزاررہےہیں۔ایک جاپانی نوجوا ن نے برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میرے جیسے بہت سے مردخواتین کے ہاتھوں ردکیے جانے سے ڈرتے ہیں۔جاپان میں اٹھارہ سے چونتیس سال کے درمیان چالیس فیصدزیادہ نوجوان کنوارے ہیں۔برطانیہ میں 2013میں یہ شرح دس فیصدتھی۔کچھ کویقین ہے کہ پورنوگرافی ہی جنسی بھوک بڑھانے کی ذمہ دارہے۔ایک 45سالہ خاتون فنکارروکوڈینشکونے کہاکہ لوگ انسانی تعلقات کے لیے پریشان نہیں ہوسکتے۔وہ خودکومطمئن نہیں کرسکتےہیں۔دیگرافرادکاخیال ہے کہ تعلقات ایک پابندی ہے۔چوبیس سالہ ایناجوکہ اکائونٹ ایگزیکٹیوہیں ان کے مطابق بوائے فرینڈ میری آزادی محدودکردے گا۔جومیں نہیں چاہتی۔ایک جاپانی نوجوا ن نے برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میرے جیسے بہت سے مردخواتین کے ہاتھوں ردکیے جانے سے ڈرتے ہیں۔جاپان میں اٹھارہ سے چونتیس سال کے درمیان چالیس فیصدزیادہ نوجوان کنوارے ہیں۔برطانیہ میں 2013میں یہ شرح دس فیصدتھی۔