عرب ممالک اسرائیل کیساتھ مل کر خفیہ طور پر کیا کر رہے ہیں؟ مسلمانوں کی بے حسی جان کر آپ بھی افسوس کریں گے. معروف پاکستانی فاسٹ بالر رومان رئیس کی شادی کی تصاویر منظر عام پر آگئی. سینما میں فلم دیکھنے کے بعد خاتون پاگل ہو گئی، ہسپتال منتقل فلم میں ایسا کیا تھا کہ اس کا یہ حال ہوا؟. معروف پاکستانی اداکارہ نادیہ جمیل کیساتھ برطانیہ میں گوروں نے ایساانتہائی شرمناک کام کر دیا کہ جان کر ہر پاکستان غصے میں آگ بگولہ ہو جائے. سعودی عرب نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو حج سے روک دیا، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی کہیں گے کہ ’’جو ہوا ٹھیک ہوا‘‘. پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے کیلئے امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کیا ’’ڈرٹی گیم ‘‘کھیل رہے ہیں. یہ پڑھنے کے بعد آپ پیٹ کے بل ہرگز نہیں سوئیں گے. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی باضابطہ کارروائی شروع ،الیکشن کمیشن نے عمران خان کو کیا کہا کہ؟. افسوس ناک خبرعامر خان کو بری بیماری لاحق ہو گئی ،اب وہ پہچانے نہیں جارہے ہیں؟. پاکستان کے مایہ ناز بلے باز عمران نذیر تو آپ کو یاد ہوں گے آج کل وہ کہاں اور کس حال میں ہیں؟

بریکنگ نیوز ، ڈالر کی قیمت 116روپے ،آئی ایم ایف نے پاکستان کو نا قابل یقین حکم جاری کر دیا


1499337743dailyausaf
اسلام آباد(ویب ڈیسک )اگرچہ گزشتہ روز کی گراوٹ کے بعد آج روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہونے لگا اور آج صبح انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کا کاروبار کا آغاز 107 روپے 80 پیسے سے ہوا لیکن صرف دو گھنٹے میں اس کی قیمت 108 روپے 10 پیسے پر پہنچ گئی۔روپے کی قدر میں تیز رفتار کمی پر وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بھی اختلافات سامنے آچکے ہیں کیونکہ وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز روپے کی قدر میں کمی کو ملک میں جاری سیاسی بحران کا نتیجہ قرار دیا لیکن اسٹیٹ بینک کے مطابق ایسا بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث ہوا تھا اور یہ ایک مثبت رجحان ہے۔دوسری جانب ایکسپریس ٹربیون میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی ادارے پچھلے چند سال سے وفاقی وزارتِ خزانہ سے مسلسل یہ کہتے آرہے ہیں کہ پاکستانی روپے کی خرید و فروخت اس کی ’’اصل قیمت‘‘ کے مطابق ہونی چاہیے جو اِن اداروں کے حساب سے اِس وقت 116 روپے فی ڈالر یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہونی چاہیے۔ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدرمیں کمی کومثبت قراردے دیا۔واضح رہے کہ روپے کی قدر میں غیرمعمولی کمی سے صرف 3 ہفتے قبل ہی آئی ایم ایف کے ڈائریکٹرز نے پاکستان سے کہا تھا کہ انتظامی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے شرح مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) میں لچک پیدا کی جائے تاکہ اس حوالے سے بیرونی عدم توازن کم کیا جاسکے۔علاوہ ازیں وسط جون 2017 میں آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ ایک ہینڈ آؤٹ میں بتایا گیا تھا کہ ڈالر اور روپے میں مستحکم شرح مبادلہ کے تناظر میں پاکستان میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہوئے ہیں یعنی حکومتِ پاکستان نے روپے کی قدر برقرار رکھنے کےلیے ڈالر کی حقیقی مالیت کو داؤ پر لگادیا ہے۔فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں روپے کی قدر مزید کم ہوگی یا اس میں اضافہ ہوگا لیکن ماضی کے تجربات مدنظر رکھے جائیں تو پاکستانی حکومت کے پاس آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دیئے گئے ’’مشوروں‘‘ پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں ہوگا۔