ملک بھر میں عیدالفطر انتہائی جوش و خروش کیساتھ منائی جارہی ہے


nayiwebاسلام آباد(ویب ڈیسک)ملک بھر میں عیدالفطر بھرپور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے تاہم حالیہ قومی سانحات کے سبب حکومت اور افواج پاکستان نے عوام سے عید مکمل سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کی ہے۔
نماز فجر کی ادائیگی کے ساتھ بعد ملک بھر میں عیدالفطر کے اجتماعات کی تیاریاں شروع کر دی گئیں جہاں چھوٹے بڑے شہروں میں عید کے ہزاروں اجتماعات منعقد ہوئے۔دارالحکومت اسلام آباد میں عید کا سب سے بڑا اجتماع شاہ فیصل مسجد میں ہوا جہاں صدر مملکت ممنون حسین، سرتاج عزیز اور رحمان ملک سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔فیصل مسجد میں نماز کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور سیکیورٹی کے پیش نظر فیصل مسجد سے مارگلہ روڈ تک سڑک عام ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا ظفر اقبال جھگڑا نے گورنر ہاو¿س میں نماز عید ادا کی جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سانحہ احمدپور شرقیہ کے لواحقین سےاظہار یکجہتی کیلئے بہاولپور میں نماز عید ادا کی۔لاہور کے باغ جناح میں نماز عید کا بڑا اجتماع ہوا جبکہ بادشاہی مسجد سمیت شہر کے دیگر مقامات پر بھی مختلف چھوٹے بڑے اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔
پشاور اور کوئٹہ کی مرکزی عید گاہوں میں عید الفطر کی نماز ادا کر دی گئی جس میں عوام الناس کے ساتھ سیاسی اور سماجی حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے سکھر میں عید کی نماز ادا کی۔نماز عید کے اجتماعات کے بعد ملک میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے بلند درجات اور ملکی سلامتی کیلئے بھی دعا کی گئی۔
ملک میں حالیہ عرصے میں ہونے والے دہشت گرد حملوں اور بہاولپور کے ٹینکر سانحے میں 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت اور فوج نے قوم سے سادگی کے ساتھ عید منانے کی اپیل کی ہے۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے قوم کوعید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ غم زدہ خاندانوں سےاظہار یکجہتی کیلئے پاک فوج عید سادگی سے منائے گی۔صدر مملکت ممنون حسین نے بھی قوم سے عیدالفطر سادگی سے منانے کی اپیل کرتے ہوئے آج ایوان صدر میں طے عید ملن کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز آئل ٹینکر کے الٹنے کی وجہ سے ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 140 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ اس سے قبل کوئٹہ اور پاراچنار میں دھماکے ہوئے تھے ۔