بجٹ پیش کرنے کی سعادت (ن ) لیگ کوحاصل ہوئی ،ناصر ڈار


1498058341dailyausaf

مظفرآباد(آئی این پی) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ ناصر ڈار نے کہا کہ آزاد کشمیر کا تاریخی بجٹ پیش کرنے کی سعادت مسلم لیگ ن کوحاصل ہوئی ہے جومیاں محمد نواز شریف کی کشمیریوں کے ساتھ کمٹمنٹ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی محنت کا صلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو مثبت تنقید کرنی چاہیے اور حکومت کے مثبت کاموں کو سراہنا چاہیے۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے ریاست میں پہلی مرتبہ اصلاحات نافذ کیں اور میرٹ بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ریاست میں روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ ہم اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سیاحت ، زراعت اور دیگر اہم شعبوں پر توجہ دی ہے جس سے ریاست کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ ٹرانسپورٹ کیلئے مناسب فنڈز رکھنے پر قائد ایوان اور وزیر خزانہ کا شکرگزار ہوں ۔ ہم نے عوام کیلئے جدید سہولتوں سے مزین بسیں چلائی ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ قائد ایوان مہاجرین سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں جس پر ان کے شکرگزار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت درست سمت چل رہی ہے جس کے ثمرات آنے والی نسلو ں کو ملیں گے۔ وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ نثار احمدخان نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں حزب اختلاف کی اہمیت سے انکا رنہیں کیا جا سکتا۔ ہم اپوزیشن کی رائے کا احترام کرتے ہیں ، آزاد کشمیر میں اپوزیشن نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا اور بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک متوازن بجٹ پیش کیا ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کا ترجمان ہے جس میں کیپسٹی بلڈنگ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال میں ہم نے اپنے اہدا ف کو پورا کیاہے ۔ آزاد کشمیر اسمبلی کا کوئی ایسا اجلاس نہیں ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار آزادی کے پروانوں سے اظہار یکجہتی نہ کیا گیا ہو۔ تحریک آزاد ی کشمیر کیلئے کسی بجٹ کی قید نہیں ہے ، اس عظیم مقصد کیلئے سارا بجٹ حاضرہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی معیاری سہولیات پورے آزاد کشمیر میں فراہم کرینگے اور ضرورت کی بنیاد پر ادارے قائم کیے جائیں گے، جس علاقہ میں ضرورت ہوگی وہاں تعلیمی ادارے دینگے۔ اب شریعت کور ٹ پہلے سے زیادہ بااختیار ہوگی۔ وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قوموں کی ترقی میں سب سے بڑا کردار ان کی بہترین منصوبہ بندی کا ہوتا ہے ۔ ہمارا بجٹ علاقائی ، قبیلائی اور دیگر تعصبات سے پاک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لوگوں کی توقعات کے مطابق اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے وافر ترقیاتی فنڈز فراہم کر کے کشمیری النسل ہونے کا ثبوت دیا جس پر انکے شکرگزار ہیں
جبکہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ممکن بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ہماری حکومت کی جو ترجیحات مقرر کی تھیں حکومت ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو انٹرنیشنل فورمز پر انتہائی دلیری اور بے باکی سے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جو اقدمات کیے وہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئے اور یہ اقدامات گڈ گورننس کی جانب ہماری پیش قدمی ہے ۔ ہم نے باوقار پبلک سروس کمیشن بنایا اور NTSمتعارف کروایا جس سے میرٹ کی بحالی ممکن ہوئی ہے ۔ ہم نے کوآرڈینیٹر کی غیر ضروری فوج کو ختم کیا اور ترقیاتی اداروں میں بہتری لائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست سے ایڈھاک ازم کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر جنگلا ت نے کہا کہ وزیر اعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام سے ترقیاتی کام دور دراز علاقوں میں بھی جاری ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجود ہ تعلیمی اداروں میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے بعد ہی کسی پیکج پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کو فارغ کر کے پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جنگلات کی بے دریغ کٹائی روک دی ہے اور غیر قانونی لکڑ کاٹنے والوں پر جرمانے کرتے ہوئے لکڑی کی سمگنلگ بند کر دی ہے، 4کروڑ روپیہ سرکاری خزانے میں جمع کروایا ہے اور 05ہزار480کنال رقبہ قابضین سے واگزار کروایاہے ۔