یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں 600 مبلغین گرفتار اور قتل ، 300 مساجد شہید

25 Views

1497454058dailyausaf

صنعا ء(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں انسانی حقوق کے وزیر محمد عسکر نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی اور معزول صالح کی ملیشیائیں اب تک 600 سے زیادہ مذہبی مبلغین کو گرفتاری ، تشدد اور موت کا نشانہ بنا چکی ہیں، اس کے علاوہ 300 سے زیادہ مساجد اور حِفظِ قرآن کے مراکز کو شہید اور تباہ کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذکورہ وزیر کا کہنا ہے کہ مبلغین کے خلاف گرفتاریوں ، تشدد اور قتل کی کارروائیاں باغیوں کے زیر قبضہ متعدد صوبوں میں ہوئیں تاہم یمنی وزیر نے موت کے گھاٹ اتارے جانے والے مبلغین کی تعداد نہیں بتائی۔یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق محمد عسکر کا کہنا تھا کہ عرب دنیا کو اس وقت شدت پسندی کے دو محاذوں کا سامنا ہے۔ ایک جانب داعش اور القاعدہ تخریب کاری میں مصروف ہیں اور دوسری جانب حزب اللہ اور حوثی باغی سرگرم ہیں۔یمنی وزیر کے مطابق مسلح حوثیوں اور ان کی حلیف قوتوں نے یمنی عوام کے خلاف ہر قسم کی کارستانی انجام دی جس میں قتل ، گرفتاری ، تشدد ، اخباروں اور اخباری ویب سائٹوں کی بندش ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کی گرفتاری ، شہروں کا محاصرہ ، شہریوں کے لیے دواں اور غذائی مواد کو داخل ہونے سے روکنا اور مختلف ہتھیاروں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔واضح رہے کہ ایران میں اپنے حامیوں کی فرقہ وارانہ سوچ سے متاثر حوثی ملیشیائیں یمن میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شدت پسندی کے نظریات مسلط کرنا چاہتی ہیںاگرچہ یمنی عوام ان نظریات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ اس ایجنڈے کے تحت باغیوں نے مساجد کو دھماکوں سے نشانہ بنایا یا اپنے ہمنوا خطیبوں کو مقرر کیا۔ اس کے علاوہ رمضان کی آمد پر شہریوں کو مساجد میں نمازِ تراویح ادا کرنے سے بھی روک دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Skip to toolbar