مہاجر لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، عالمی ادارہ مہاجرت

38 Views

52نیویارک(این این آئی)بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اٹلی لائی جانے والی نائجیریا کی ہزاروں مہاجر لڑکیوں کو یورپی ممالک میں جسم فروشی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان لڑکیوں میں متعدد کم سن ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم)کے ایک ترجمان نے کہاکہ انسانوں کے سمگلر بحیرہ روم کے ذریعے نائجیریا سے اٹلی لانے والی لڑکیوں کو جسم فروشی کرنے والے نیٹ ورک کے حوالے کر سکتے ہیں۔ اس ادارے کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران خطرناک سمندری راستوں سے اٹلی لائے جانے والی ان لڑکیوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔سن 2014 میں ایسی لڑکیوں کی تعداد 1054 تھی جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار کے قریب نوٹ کی گئی۔

تازہ اعدادوشمار کے مطابق رواں برس جولائی تک نائجیریا سے اٹلی سمگل کی جانے والی ان بچیوں کی تعداد تقریبا چار ہزار تک پہنچ چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی او ایم کے ایک محتاط اندازے کے مطابق نائجیریا سے اٹلی لائے جانے والی لڑکیوں میں سے 80 فیصد سیکس ورکر بنائے جانے کے خدشے کا شکار ہیں۔اٹلی پہنچنے کے بعد ان لڑکیوں سے انٹرویو کیا گیا تو متعدد کا کہنا تھا کہ انہیں مفت میں ہی یورپ پہنچایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں کے سمگلر انہیں ایک اچھی زندگی کا جھانسہ دے کر اٹلی لاتے ہیں اور پھر انہیں روم کی سڑکوں پر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔فلاویو ڈی جاکومو کے مطابق کبھی کبھار ان لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کی خاطر انہیں دیگر یورپی ممالک بھی بھیج دیا جاتا ہے، جن میں سپین، جرمنی، فرانس اور آسٹریا بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سمگل کی جانے والی ان کم سن بچیوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جسم فروشی یا سیکس کیا چیز ہوتی ہے۔ ان نو عمر بچیوں کا خیال ہوتا ہے کہ غالبا یورپ پہنچ کر انہیں بہتر زندگی بسر کرنے کا موقع مل جائے گا۔فلاویو ڈی جاکومو کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اٹلی اسمگل کی جانے والی ان لڑکیوں کو ایسے خطرات اور ان کے حقوق سے باخبر کر ری ہے تاکہ وہ کسی مشکل سے بچنے کی خاطر پہلے سے ہی منصوبہ بندی کر سکیں۔ گزشتہ برس جسم فروشی کروانے والے ایسے نیٹ ورکس سے فرار ہونے والی 425 لڑکیوں نے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Skip to toolbar