جے آئی ٹی کے سامنے پیشی،شہباز شریف سے ساڑھے3گھنٹے پوچھ گچھ۔۔۔کیا کچھ پوچھا گیا ؟ سب سامنے آگیا

32 Views

1497696219dailyausaf

اسلام آباد( )وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف پاناماکیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے،جے آئی ٹی نیشہبازشریف سے ساڑھے تین گھنٹے سے زائدوقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاناماکیس کی جے آئی ٹی کے سربراہ واجدضیاء کی سربراہی میں اجلاس ہوا،جس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف بغیرپروٹوکول پیش ہوئے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے قبل پنجاب ہاؤس اسلام آبادمیں اہم اجلاس بھی ہوا۔وزیرداخلہ چوہدری نثارنے وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریفسے پاناماکیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ساڑھے تین سے زائدوقت سوالات کیے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف سے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ منی ٹریل اور گلف اسٹیل ملز،حدیبیہ پیپرزملزاور خاندانی کاروبارسے متعلق سوالات پوچھے گئے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے آج پہلی پیشی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف 11بجے جوڈیشل اکیڈمی میں پہنچے ،اور ساڑھے تین گھنٹے سے زائدوقت سوالات کے جوابات دیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب دستاویزات کے ہمراہ اکیلے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔اس سے قبل وزیراعظم نوازشریف ایک باراوروزیراعظم کے صاحبزادے حسین نوازپانچ مرتبہ جبکہ حسن نواز2مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکراپنے مئوقف کادفاع کرچکے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔پیشی کے بعدانہوں نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے س جے آئی ٹی کی تصدیق کی ،اس نے مجھے کال نوٹس بجھوایا۔کہ میں ان کے سامنے پیش ہوکرپاناماکیس کے بارے بتاؤں۔میں الحمداللہ اپناسارابیان ریکارڈکروادیاہے۔میں یہ کہناچاہوں گاکہ پرسوں وزیراعظم نوازشریف بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔جس سے پاکستانی تاریخ میں ایک نیاباب رقم ہوا۔وزیراعظم اور میں نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکرقانون کی حکمرانی کی خدمت کی ہے۔اس سے ثابت ہواکہ ہم منتخب سیاستدان آئین و قانون کااحترام کرتے ہیں۔شہبازشریف نے کہاکہ بندوق کی طاقت پراقتدارپرشب خون مارتے ہیں ان کاعدلیہ اور قانون کے ساتھ کیارویہ ہے۔سب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے کمرکاپراناعارضہ ہے۔میں نے کمرکی تاریخ کابہانہ نہیں بنایا۔پنڈی میں یالندن میں اپنے معالج کے پس نہیں چلاگیا۔لیکن میں نے عاجزی سے اپنامئوقف پیش کیا۔یہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ شریف برادران کااحتساب پہلی بارنہیں۔آمریت کودورمیں2جنوری 1972ء کی شام اتفاق فاؤنڈری کوچھین لیاگیا۔یہ اتفاق فاؤنڈری ہے جس کومیرے باپ اور سات بھائیوں نے ملکرقائم کی۔60ء کی دہائی میں پاکستانی کی بڑی فیکٹری کہلاتی تھی۔65ء کی جنگ میں جودفاعی سازوسامان استعمال ہواوہ بھی بنتاتھا۔ 10ہزارمزدوربے روزگارہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیربھٹوکے دورمیں 88ء اور 90ء میں احتساب ہوا۔پھربے نظیرکی دوسری حکومت 96ء میں ہماراتیسرااحتساب ہوا۔چوتھااحتساب مشرف کے دورمیں ہوا۔بے نظیرکے دورمیں میرے والدکوگرفتارکیاگیا۔مشرف کے دورمیں مجھے اور نوازشریف کوہتھکڑی لگائی گئی۔آج پھرپانچواں احتساب ہورہاہے۔آج تک سڑک میں ٹھیکے،میٹروبس کے ٹھیکے کا،سرکاری خردبردیاکرپشن کاکیس نہیں ہے۔نہ پہلے کرپشن کاکیس تھا نہ آج ہے۔پونے چھ ارب کے قرض اداکیے۔انہوں نے کہا کہ یتیموں کے قرضے معاف کرواکرلندن میں فیکٹریاں ،گھربنائے گئے،رینٹل پاورپلانٹ میں پاکستان کوکھوکھلاکردیاگیا۔اسی طرح نندی پوراور نیلم جہلم میں خردکی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مٹی سے بہت پیارہے۔جے آئی ٹی نے جتنے بھی سوالات کیے میں نے اپنی معلومات کے تحت جواب دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Skip to toolbar