بھارت کے بعد امریکہ نے بھی سرجیکل سٹرائیکس کا اعلان کر دیا

130 Views

obama-modi

اسلام آباد(این این آئی)امریکی انتظامیہ کی جانب سے شام میں جنگ بندی کی مساعی میں ناکامی کے بعد بشار الاسد کی وفادار فورسز کے ٹھکانوں پر محدود اہداف پر حملوں پر غور شروع کیا ہے۔امریکی میڈیا نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ شام میں سرجیکل اسٹرائیکس کارروائیوں پر غور کررہی ہے۔ امریکی انتظامیہ شام میں اسدی فوج کے ٹھکانوں پر محدود اہداف پرحملوں کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب امریکی ری پبلیکن صدارتی نائب امیدوارمائیک پنس نے کہاہے کہ اوباما دورمیں مشرق وسطیٰ کی صورت حال قابوسے باہرہوئی، داعش بنی، قرضہ دوگناہوااورغربت بھی بڑھی ہے۔لیکن اب تبدیلی کا دور ہے مگر لیری کلنٹن اورٹم کین وہی صورتحال دوبارہ چاہتے ہیں۔جواب میں ڈیموکریٹک نائب صدارتی امیدوار ٹم کین نے کہاہے کہ اسامہ بن لادن ہلیری دور میں ہی مارا گیااور ساتھ ہی ایران کانیوکلیرپروگرام کنٹرول کیا گیاتھا۔ہم چھوٹیکاروبارکوترقی دیں گے، تنخوا ہیں بڑھائیں گے مگرٹرمپ توامیروں پر ٹیکس کم کر کے غریبوں پر بڑھائیں گے۔ ٹرمپ نے اب تک یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا کہ وہ صدارتی امیدوار بنے تو ٹیکس گوشوارے ظاہرکروں گا،انھوں نے وعدہ خلافی کی ہے ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نائب صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ کے دوران امریکی ری پبلیکن صدارتی نائب امیدوارمائیک پنس نے کہاکہ اوباما دورمیں مشرق وسطیٰ کی صورت حال قابوسے باہرہوئی، داعش بنی، قرضہ دوگناہوااورغربت بھی بڑھی ہے۔لیکن اب تبدیلی کا دور ہے، ہلیری کلنٹن اورٹم کین وہی صورتحال دوبارہ چاہتے ہیں۔ ٹرمپ ٹیکس کم کریں گے۔اوبامادورمیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال قابوسے باہر ہوئی تھی۔مائیک پنس نے کہا کہ ہلیری کی انتخابی مہم بے عزتی کرنے سے بھرپورہے۔ہلیری نے کہاتھاکہ ٹرمپ کے آدھے حامی قابل عزت نہیں اور پھر اس پر معافی بھی مانگی تھی۔ ٹرمپ غیرقانونی امیگرینٹس کونکالیں گے اور ہلیری اورٹم کین اوپن بارڈرکی پالیسی جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں صدر اوباما کواسامہ کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کاکریڈٹ دوں گا۔عراق 2009میں محفوظ ہوچکاتھا،مگراوباماکی پالیسیوں کے سبب اب ویسانہیں ہے۔ادھر ڈیموکریٹک رہنما ٹم کین نے کہاکہ اسامہ بن لادن ہلیری دور میں ہی مارا گیااور ساتھ ہی ایران کانیوکلیرپروگرام کنٹرول کیا گیاتھا۔انہوں نے کہا ہم چھوٹیکاروبارکوترقی دیں گے، تنخوا ہیں بڑھائیں گیاورٹرمپ توامیروں پر ٹیکس کم کر کے غریبوں پر بڑھائیں گے۔ ٹرمپ نے اب تک یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیا کہ وہ صدارتی امیدوار بنے تو ٹیکس گوشواریظاہرکروں گا،انھوں نے وعدہ خلافی کی ہے۔ٹم کین نے کہاکہ دہشتگردی کاخطرہ کم ہواہے کیونکہ اسامہ بن لادن ماراگیاہے اوردہشتگردی کاخطرہ 8برس پہلے کے مقابلے میں کم بھی ہواہے۔ہلیری کلنٹن اس ٹیم میں تھیں ،جس نے اسامہ کوہلاک کیاتھا۔ٹم کین نے کہاکہ ٹرمپ نے میسکیکنزکوزیادتی کرنیوالے کہااور جھوٹ بولاکہ صدراوباماامریکی شہری ہی نہیں ہے۔اس پر نہ ہی انہوں نے معافی مانگی، وہ 16ملین لوگوں کو بے دخل کرناچاہتے ہیں جو احمقانہ بات ہے۔امریکیوں کی اکثریت نے ٹیکس نہ دینے والے امیدوار کو خود غرض اور ملک دشمن قرار دے دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدارت کی انتخابی مہم میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس کا معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے 1995 کے بعد ٹیکس ادا نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ انہوں نے امریکی ٹیکس قوانین کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، جو ان کی ذہانت کا ثبوت ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کے ایک سروے میں 46 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کے موقف سے اتفاق کیا ہے، جن میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک سپورٹر دونوں شامل ہیں، جبکہ 67 فیصد امریکیوں نے ٹیکس نہ دینے والے امیدوار کوخود غرض اور 61 فیصد نے ملک دشمن قرار دے دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Skip to toolbar